قمر جلالوی ۔۔۔ ہے سخاوت میں مجھے اتنا ہی اندازۂ گل

ہے سخاوت میں مجھے اتنا ہی اندازۂ گل
بند ہوتا نہیں کھل کر کبھی دروازۂ گل

برق پر پھول ہنسے، برق نشیمن پہ گری
میرے تنکوں کو بھگتنا پڑا خمیازۂ گل

خیر گلشن میں اُڑا تھا مری وحشت کا مذاق
اب وہ آوازۂ بلبل ہو کہ آوازۂ گل

کوششیں کرتی ہوئی پھرتی ہے گلشن میں نسیم
جمع ہوتا نہیں بکھرا ہو شیرازۂ گل

اے صبا کس کی یہ سازش تھی کہ نکہت نکلی
تو نے کھولا تھا کہ خود کھل گیا دروازۂ گل

Related posts

Leave a Comment